Islamabad: Important Revelations in Noor Case

Important Revelations in Noor Case

The investigation into the murder of Noor Muqaddam, daughter of former diplomat Shachokat Muqaddam, who was killed in the federal capital Islamabad, has revealed important revelations.

Police have arrested Zahir Jaffer, accused in the murder of Noor Muqaddam at Kohsar police station two days ago, and started investigation into the incident.

The police investigation has revealed in their investigation that the accused Zahir Jafar has American citizenship and the accused also had a plan to return to the United States on Wednesday.

Police said that the accused informed the father of the accused about the murder of the woman. A murder weapon was also recovered from the possession of the accused.

According to SSP Mustafa, the incident seems to be planned by the accused. The case is being investigated from all angles. The accused will not get any concession in any case.

According to police officials, the girl’s father told police that his daughter had left home on the 19th after which her phone number was blocked, but when contacted again, the victim said that she was going to Lahore.

The father of the slain Noor Muqaddam said that he had a personal relationship with the family of Zakir Jaffer, the father of Zahir Jaffar. On the 20th, Zahir Jaffar called me and told me that Noor was not with him but at ten o’clock at night Your daughter Noor Muqaddam has been killed. Come to Kohsar police station.

According to Noor’s father, the house where the police took me was Zahir Jaffer’s house. I went inside and saw that my daughter had been brutally killed with a sharp instrument and her head had been cut off from her body.

Independent Urdu journalist Effat Hussain Rizvi has revealed about the accused that the accused Zahir Jaffar was the chief brand strategist of his father’s company Ahmed Jaffer Endco and was a psychotherapist trained from Therapy Works Islamabad.

Effat Rizvi added that how could a girl recognize this butcher who lectured the children of Beacon House on the challenges of youth when the psychology teachers could not recognize him.

اسلام آباد: نورمقدم کیس میں اہم انکشافات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفارتکار شچوکت مقدم کی صاحبزادی نورمقدم قتل کیس کی ‏تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

دو روز قبل تھانہ کوہسار میں ہونے والی نورمقدم کے قتل ملوث ملزم ظاہر جعفر کو پولیس نے ‏گرفتار کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس تفتیش نے اپنی تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ ملزم ظاہرجعفر کے پاس امریکاکی شہریت ہے اور ملزم کا بدھ کے روز امریکاواپس ‏جانے کا بھی پلان تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کوقتل کرنے پرملازم نے ملزم کے والد کو آگاہ کیا ملزم کےقبضہ ‏سےآلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا۔

ایس ایس پی مصطفیٰ کے مطابق بظاہر ملزم کی جانب سے واردات منصوبہ بندی لگتی ہےکیس ‏میں ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے ملزم کو کسی صورت کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

پولیس حکام کے مطابق لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی 19 تاریخ کو گھر سے گئی تھیں جس کے بعد ان کا فون نمبر بند ہو گیا تھا، تاہم دوبارہ رابطہ ہونے پر مقتولہ نے بتایا کہ وہ لاہور جا رہی ہیں۔

مقتولہ نور مقدم کے والد نے بتایا کہ ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی فیملی سے انکے ذاتی تعلقات تھے ، 20 تاریخ کو انھیں ظاہر جعفر نے مجھے فون کیا اور اور بتایا کہ نور ان کے ساتھ نہیں ہے لیکن رات دس بجے انھیں تھانے سے کال آئی کہ آپ کی بیٹی نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے آپ تھانہ کوہسار آ جائیں۔

نور کے والد کے مطابق پولیس مجھے جس گھر میں لے کر گئی وہ ان کے بقول ظاہر جعفر کا گھر تھا۔ اندر جا کر دیکھا کہ میری بیٹی کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے قتل کر کے اس کا سر جسم سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی صحافی عفت حسین رضوی نے ملزم سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر باپ دادا کی کمپنی احمد جعفر اینڈکو کا چیف برانڈ اسٹرٹیجسٹ تھا اور تھراپی ورکس اسلام آباد سے تربیت یافتہ سائیکو تھراپسٹ تھا۔

عفت رضوی نے مزید بتایا کہ بیکن ہاؤس کے بچوں کو نوجوانی کے چیلنجز پر لیکچر دینے والا اس قصاب کو جب نفسیات پڑھانے والے اساتذہ نہیں پہچان سکے تو ایک لڑکی کیسے پہچان لیتی

Related articles