From the opposition, Imran Khan has demanded a guarantee of "No Arrest, No Cases" - Hamid Mir

From the opposition, Imran Khan has demanded a guarantee of “No Arrest, No Cases” – Hamid Mir

Posted on

Imran seeks NRO, wants bail for non-prosecution and non-arrest: Hamid Mir

Senior journalist Hamid Mir has revealed that Prime Minister Imran Khan is seeking NRO from the opposition.

In a live broadcast on Geo News, Hamid Mir said that Imran Khan was sitting in Bani Gala and the people of the cabinet were in touch with him.

He said that the opposition leaders had agreed with the Speaker that they would hold voting after Iftar but the ministers were pressuring the Speaker not to hold voting after Iftar.

He disclosed that “an effort is being made to hold talks with some key opposition figures during this period and some government ministers will hold talks and they have received a new order that is important for the opposition.” Personalities need to be assured that if the no-confidence motion succeeds and a new government is formed tomorrow, the NAB will not file cases against Imran Khan and the cabinet and they will not be arrested.

“In other words, Imran Khan is seeking NRO from the opposition but he has spoken to the opposition. He has said that we are not ready for any such compromise. The order of the Supreme Court should be complied with,” he added.

Hamid Mir said that even last night there was talk between the government and opposition leaders that Imran Khan would not mind if a leader of a small party was made the Prime Minister instead of Shahbaz Sharif.

It may be recalled that the session of the National Assembly has been going on since 10:30 am but the voting process on the resolution has not been started by the Speaker so far and now there is a gap till 7:30 am.

عمران نے این آر او مانگ لیا، مقدمات نہ بنانے اور عدم گرفتاری کی ضمانت چاہتے ہیں، حامد میر

سینیئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن سے این آر او مانگ رہے ہیں۔

جیو نیوز کی براہ راست نشریات میں گفتگو میں حامد میر کا کہنا تھاکہ عمران خان بنی گالہ میں بیٹھے ہیں اور کابینہ کے لوگ ان سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ اسپیکر کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کی بات چیت طے ہوئی تھی کہ افطار کے بعد ووٹنگ کرا دیں گے لیکن اسپیکر پر وزرا دباؤ ڈال رہے ہیں کہ افطار کے بعد ووٹنگ نہ کرائیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ’کوشش یہ کی جارہی ہے اس وقفے میں اپوزیشن کی کچھ اہم شخصیات کے ساتھ بات چیت کی جائے گی اور حکومت کے کچھ وزرا بات چیت کریں گے اور ان کو نیا حکم نامہ آیا ہے وہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی اہم شخصیات سے گارنٹی لینی ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے اور کل نئی حکومت بنتی ہے تو عمران خان اور کابینہ کے خلاف نیب کے مقدمات نہیں بنائے گی اور انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا اس کی یقین دہانی دی جائے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’دوسرے الفاظ میں عمران خان اپوزیشن سے این آر او مانگ رہے ہیں لیکن اپوزیشن شخصیت سے بات ہوئی انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے کسی سمجھوتے کیلئے تیار نہیں ہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے‘۔

حامد میر کا کہنا تھاکہ گزشتہ رات کو بھی حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں میں بات ہوئی تھی کہ شہباز شریف کے بجائے کسی چھوٹی پارٹی کے رہنما جو وزیراعظم بنا دیا جائے تو عمران خان کو اعتراض نہیں ہوگا۔؎

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 10 بجے سے جاری ہے لیکن اب تک اسپیکر کی جانب سے قرارداد پر ووٹنگ کا عمل شروع نہیں کیا گیا اور اب ساڑھے 7 بجے تک کا وقفہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *