Donald Trump Slams Ashraf Ghani


Donald Trump also called Ashraf Ghani “extremely cunning” and “murderer”

New York: Former US President Donald Trump also called former and fugitive Afghan leader Ashraf Ghani a “traitor” in his interview, saying he “killed and fled”.

According to reports, Donald Trump expressed these views in an interview with Fox News yesterday.

In the interview, Donald Trump also spoke about the talks he had with the Afghan Taliban and the Afghan government during his tenure.
Trump said that during the talks he had made it clear to Afghan Taliban leader Mullah Abdul Ghani Baradar Akhund that US troops from Afghanistan would be subject to the condition that no harm be done to the Americans and allies there (in Afghanistan).

“If (the Taliban) harms the Americans or their allies, the United States will retaliate by bombing their (Afghan Taliban leaders’ hometowns and other parts of the country,” Trump said.

However, Trump’s stance on former Afghan President Ashraf Ghani was strong: “I wanted him (the Taliban) to reach an agreement with the Afghan government. Now, to be honest, I didn’t have much faith in (Ashraf) Ghani. I openly said that I think he (Ashraf Ghani) is very cunning.

“He (Ashraf Ghani) used to eat with our (US) senators all the time and get their support,” Trump added. “The senators were in his pocket and it’s huge for us.” There was a problem. But I never liked him; he was killed and escaped in many different ways. “However, Donald Trump did not elaborate.

In the interview, Trump said that Ashraf Ghani’s “lifestyle, his houses and where he lives,” everything is great. Therefore, Donald Trump also expressed confidence that Ashraf Ghani may have escaped with vehicles full of notes.

In this regard, Saad Mohseni, the head of a popular Afghan TV channel, said that Ashraf Ghani will always be remembered as a traitor in Afghanistan and for the next hundred years, the Afghan people will continue to spit on his grave. ”

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشرف غنی کو ’انتہائی مکار‘ اور ’قاتل‘ قرار دے دیا

نیو یارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے انٹرویو میں سابق اور مفرور افغان سربراہ اشرف غنی کو ’حد درجہ مکار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’قتل کرکے بھاگ گیا۔‘

خبروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیکا۔

انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان اور افغان حکومت سے اپنے دور میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران انہوں نے افغان طالبان رہنما، ملا عبدالغنی برادر اخوند پر واضح کردیا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا اس بات سے مشروط ہوگا کہ وہاں (افغانستان میں) امریکیوں اور اتحادیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔

’’اگر (طالبان نے) اگر امریکیوں یا اتحادیوں کو نقصان پہنچایا تو امریکا بھی ان (افغان طالبان رہنماؤں) کے آبائی قصبوں اور ملک کے دوسرے علاقوں پر بمباری کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا،‘‘ ٹرمپ نے کہا۔

البتہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے بارے میں ٹرمپ کی رائے بہت سخت تھی: ’’میں چاہتا تھا کہ وہ (طالبان) افغان حکومت سے معاہدہ طے کریں۔ اب، سچ کہوں تو، مجھے (اشرف) غنی پر کچھ زیادہ بھروسہ نہیں تھا۔ میں نے کھلم کھلا کہا تھا کہ میرے خیال میں وہ (اشرف غنی) انتہائی مکار ہے۔‘‘

’’وہ (اشرف غنی) سارا وقت ہمارے (امریکی) سینیٹروں کے ساتھ کھانے پینے اور ان کی حمایت حاصل کرنے میں لگا رہتا تھا،‘‘ ٹرمپ نے اضافہ کیا، ’’سینیٹر اس کی جیب میں تھے اور یہ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن میں نے کبھی اسے پسند نہیں کیا… کئی مختلف حوالوں سے وہ قتل کرکے فرار ہوگیا۔‘‘ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اشرف غنی کا ’’طرزِ زندگی (لائف اسٹائل)، اس کے مکانات اور جہاں وہ رہتا ہے،‘‘ سب کچھ بہت عالیشان ہے۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یقین ظاہر کیا کہ اشرف غنی واقعی میں نوٹوں سے بھری گاڑیاں لے کر فرار ہوا ہوگا۔

اس بارے میں افغانستان کے ایک مشہور ٹی وی چینل کے سربراہ سعد محسنی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اشرف غنی کو ایک غدار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اگلے سو سال تک افغان عوام ’’اس کی قبر پر تھوکتے رہیں گے۔‘‘