Complete Details of Four Friends Who Were Killed In Kashmala Tariq’s Car Crash

Complete Details of Four Friends Who Were Killed In Kashmala Tariq's Car Crash

The five youths killed and injured in a traffic accident in the Pakistani capital Islamabad were close friends and residents of the same area in Mansehra District, Khyber Pakhtunkhwa.

The deceased Farooq and the injured Mujeeb-ur-Rehman were working as security guards at King Abdullah Hospital, Mansehra, while Mohammad Anis, Mohammad Adil and Haider Ali alias Soni were close friends and students.

Four of the five friends in Mehran lost their lives after a speeding vehicle in the convoy of Federal Ombudsman for Harassment Kashmala Tariq collided with a single vehicle in Islamabad on Monday night.

These friends had come to Islamabad from Mansehra for a job interview with a friend who dreamed of a better future.

Muhammad Usman, a cousin and close friend of one of the young Muhammad Anis, said, “Our areas are in turmoil. I never thought that friends who lived together all the time would leave the world together like this. ‘

He said that Mohammad Anis was looking for a job as well as getting an education as his father works as a class four in a government agency.

“He was the eldest of four siblings and he knew he had the responsibilities of a home as an older brother,” he says.

Muhammad Usman said that the four friends were helpers of each other who were often seen together in the area and they were working together in the area on occasions of happiness and sorrow.

Muhammad Anis had come to Islamabad with his friends for an interview for recruitment in the Anti-Drug Agency.

Muhammad Anis, a close friend of Muhammad Anis, said he had met him before he left.

“He told me I was very well prepared to join the ANF,” he said. He had passed the first exam. He was scheduled to be interviewed on Tuesday.

Muhammad Anas said, “I am their childhood friend. We studied together. Had beautiful moments of life together. We all had very high ambitions for our own future and for each other. We all used to help each other to get them. But now all four of my friends are no longer in this world, which is very sad. ‘

Funeral prayers of Farooq, who lost his life in the accident, were offered at Mansehra. After the funeral prayer, his uncle Chen Zeb told the BBC that Farooq’s father was a carpenter. “They were two brothers and a sister. Farooq was the eldest. He had recently got a temporary job at King Abdullah Hospital. Even after that he was looking for a permanent job. I used to apply in different places.

He said that when recruitment advertisements came in the Anti-Narcotics Force, Farooq also applied for it. “He ran every day to improve his stamina.”

Farooq’s uncles said that before going for recruitment, he had called me to pray for me to be recruited. “I told him to take the rent money and he replied that Haider Ali was taking his car and he would take other friends with him.”

Farooq’s mother, who was preparing for his wedding, fainted at the sight of her son’s funeral and is now in a state of shock.

How did the accident happen?
According to the report of Safe City Camera of Islamabad Traffic Police, the vehicle involved in the accident was hit by a speeding Land Cruise on a closed signal which caused it to overturn. The report said that the observation of the videos showed that the fault was with the Land Cruiser as its signal was off.

According to the report, the Land Cruiser then hit a motorcycle and it too went away and fell on the green part in the middle of the road.

CCTV footage of the incident, made from a camera on the left at the scene of the accident, shows the Mehran moving towards the speed lane in the middle of the road and turning towards the intersection, apparently when the signal was turned off. At the same time, a speeding vehicle coming into the speed lane hit him.

Charges after the accident

It is to be noted that in the videos circulating on social media immediately after the accident, Azmala, son of Kashmala Tariq, can also be seen at the scene of the accident who is standing next to the vehicles but it is not clear from them whether he was driving. Or not.

According to police investigating officer Asif Khan, a driver admitted his mistake after the accident and was arrested, but police have not taken him into custody.

According to him, an investigation is underway into whether the vehicle was being driven by Kashmala Tariq’s son or the driver. ‘

Asif Khan said that at the time of the accident, a vehicle with an official number plate was also accompanying the white vehicle and police were trying to obtain CCTV camera footage to determine who was driving the vehicle. ۔

Talking to private television, Kashmala Tariq said that her car was also present with the convoy in which she and her husband were present. However, his son was in the backseat. He lamented the loss of lives in the accident and said that they had stopped there after the accident and called for an ambulance and sent the injured to the hospital. He denied reports that his vehicles had fled the scene after the crash.

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے پانچ نوجوان خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک ہی علاقے کے رہنے والے اور قریبی دوست تھے۔

ہلاک ہونے والے فاروق اور زخمی مجیب الرحمن کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض ادا کرتے تھے جبکہ محمد انیس، محمد عادل اور حیدر علی عرف سونی بہت ہی قریبی دوست اور طالب علم تھے۔

پیر کی رات اسلام آباد میں وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی کی ایک سنگل پر ایک مہران گاڑی سے ٹکر لگنے کے بعد مہران میں سوار پانچ میں سے چار دوست جان کی بازی ہار گئے۔

یہ دوست بہتر مستقبل کے خواب سجائے اپنے ایک دوست کی نوکری کے انٹرویو کے لیے مانسہرہ سے اسلام آباد آئے تھے۔

انہی میں سے ایک نوجوان محمد انیس کے کزن اور قریبی دوست محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقوں میں کہرام مچ گیا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ دوست جو ہر وقت ایک ساتھ رہتے تھے اس طرح ایک ساتھ ہی دنیا سے چلے جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد انیس تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی تلاش کر رہے تھے کیونکہ ان کے والد ایک سرکاری ادارے میں کلاس فور کی ملازمت کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ’یہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اس کو اندازہ تھا کہ اس پر بڑا بھائی ہونے کے ناطے گھر کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔‘

محمد عثمان کا کہنا تھا کہ چاروں دوست ایک دوسرے کے مددگار تھے جنہیں اکثر علاقے میں اکھٹا دیکھا جاتا تھا اور وہ خوشی و غم کے موقعوں پر ایک ساتھ علاقے میں کام کر رہے ہوتے تھے۔

محمد انیس انسداد منشیات کے ادارے میں بھرتی کے لیے انٹرویو کی غرض سے اپنے دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے تھے۔

محمد انیس کے ایک قریبی دوست محمد انس کا کہنا تھا کہ جانے سے پہلے وہ انھیں مل کر گیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں ’اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے اے این ایف (انسداد منشیات کا ادارہ) میں بھرتی ہونے کے لیے بہت تیاری کر رکھی ہے۔ اس نے پہلا امتحان پاس کر لیا تھا۔ منگل کو اس کا انٹرویو ہونا تھا۔‘

محمد انس کا کہنا تھا کہ ’میں ان سب کا بچپن کا دوست ہوں۔ ہم نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی۔ ایک ساتھ زندگی کے خوبصورت لمحات گزارے تھے۔ ہم سب کے اپنے اپنے مستقبل اور ایک دوسرے کے لیے بہت بلند عزائم تھے۔ ان کو حاصل کرنے کے لیے ہم سب دوست ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ مگر اب میرے چاروں دوست اس دنیا میں نہیں رہے جس کا بہت دکھ ہے۔‘

حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے فاروق کی نماز جنازہ مانسہرہ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد ان کے ماموں چن زیب نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ فاروق کے والد کارپیٹنر ہیں۔ ’یہ دو بھائی اور ایک بہن تھے۔ فاروق سب سے بڑا تھا۔ اس نے کچھ عرصہ قبل ہی کنگ عبداللہ ہسپتال میں عارضی ملازمت حاصل کی تھی۔ جس کے بعد بھی یہ مستقل ملازمت کی تلاش میں تھا۔ اکثر مختلف جگہوں پر درخواستیں دیتا رہتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اینٹی نار کوٹیکس فورس میں جب بھرتیوں کے اشتہار آئے تو فاروق نے بھی اس کے لیے درخواست دی۔ ’وہ روزانہ دوڑ لگاتا تاکہ اس کا سٹیمنا بہتر ہو۔‘

فاروق کے ماموں کا کہنا تھا کہ بھرتی کے لیے جانے سے پہلے ’اس نے مجھے فون کیا تھا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں بھرتی ہو جاؤں۔ ’میں نے اس سے کہا کہ کرائے کے پیسے لے جاؤ تو اس نے جواب دیا کہ حیدر علی اپنی گاڑی لے کر جا رہا ہے اور وہ دیگر دوستوں کو بھی ساتھ لے جائے گا۔‘

فاروق کی والدہ جو اس کی شادی کی تیاریاں کر رہی تھی اپنے بیٹے کا جنازہ دیکھ کر بے ہوش ہوگئیں اور اس وقت وہ صدمے سے بے حال ہیں۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سیف سٹی کیمرہ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو تیز رفتار لینڈ کروز نے بند اشارے پر ٹکر ماری جس سے وہ الٹتی ہوئی دور جا گری۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیوز کے مشاہدے سے ظاہر ہوا ہے کہ غلطی لینڈ کروزر کی تھی کیونکہ اس کا سگنل بند تھا۔

رپورٹ کے مطابق لینڈ کروزر نے اس کے بعد ایک موٹر سائیکل کو بھی ٹکر ماری اور وہ بھی دور جا کر سڑک کے درمیان موجود سبزے والے حصے پر گری۔

حادثے کے مقام پر بائیں جانب موجود ایک کمیرے سے بنی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بظاہر اشارہ بند ہونے پر مہران گاڑی سڑک کے درمیان سے سپیڈ لین کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا رخ چوک کی جانب سے اسی دوران سپیڈ لین میں آنے والی تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار دیتی ہے۔

حادثے کے بعد الزامات

واضح رہے کہ حادثے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں حادثے کے مقام پر کشمالہ طارق کے بیٹے ازلان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو گاڑیوں کے پاس کھڑے ہیں تاہم ان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا وہ گاڑی چلا رہے تھے یا نہیں۔

پولیس کے تفتیشی افسر آصف خان کے مطابق حادثے کے بعد ایک ڈرائیور نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے گرفتاری دی تاہم پولیس نے انہیں حراست میں نہیں لیا ہے۔

ان کے بقول ’ابھی اس الزام کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا گاڑی کشمالہ طارق کا بیٹا چلا رہا تھا یا کہ ڈرائیور۔ ‘

آصف خان کا کہنا ہے کہ حادثے کہ وقت ایک سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی بھی سفید گاڑی کے ہمراہ تھی اور پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ گاڑی کون چلا رہا تھا سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کشمالہ طارق نے نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گاڑی بھی اس قافلے کے ساتھ موجود تھی جس میں وہ اور ان کے شوہر موجود تھے۔ تاہم ان کا بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا۔ انھوں نے حادثے میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ حادثے کے بعد وہاں رکے تھے اور خود ایمبولینس منگوا کر زخمیوں کو ہسپتال بھیجا۔ انھوں نے ایسی اطلاعات کی تردید کی کہ حادثے کے بعد ان کی گاڑیاں موقعے سے فرار ہو گئی تھیں۔

Add comment